The story of the Arab woman 2024

I was an Arab woman’s driver in Saudi Arabia. Her 70-year-old husband was often ill. One day this woman told me to eat my husband’s food. A servant is required for drinking and medicine. To hear the rest of the full story bolokistory.com, click

میں سعودی عرب میں ایک عربی عورت کا ڈرائیور تھا۔ اس عورت کا 70 سالہ شوہر اکثر بیمار رہتا تھا۔ ایک دن اس عورت نے کہا مجھے شوہر کے کھانے پینے اور دوائی کیلئے ایک نوکرانی چاہیے۔ اگر تم پاکستان سے اپنی بیوی کو بلو الو تو میں پانچ لاکھ اضافی دونگی۔ میں نے بیوی سے مشورہ کے بعد اسکو اپنے پاس بلا لیا۔ کچھ دنوں بعد اس عورت نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں دوسرے شہر بھیج دیا۔

The story of the Arab woman

ایک دن میری بیگم کا فون آیا اور وہ روتے ہوئے بولی: مجھے کسی عذاب بھی پھنسا دیا ہے، میں مر جاونگی۔ مجھے یہاں سے

جلدی نکالو۔ اگلے ہی دن میں کسی کو بتائے بغیر اچانک واپس آیا تو دیکھ کر میری روح کانپ اُٹھی کیونکہ وہی۔۔

چند دنوں کے بعد، مجھے عورت نے کسی کام کے سلسلے میں دوسرے شہر بھیج دیا۔ وہاں میرا قیام چند دن کے لیے تھا، اور سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ ایک دن، اچانک، میری بیوی کا فون آیا اور وہ روتے ہوئے بولی: “مجھے کسی عذاب میں پھنسا دیا ہے، میں مر جاونگی۔ مجھے یہاں سے جلدی نکالو۔” میں فوراً پریشان ہوگیا اور کوئی عذر پیش کیے بغیر فوراً واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

جب میں گھر پہنچا، تو وہاں کا منظر دیکھ کر میری روح کانپ اُٹھی۔ وہی عورت جو مجھے خوش اخلاقی سے باتیں کرتی تھی، اب میری بیوی کو ایک کمرے میں قید کیے ہوئے تھی۔ کمرے کے باہر کچھ سخت دربان موجود تھے جو میری بیوی کو باہر نکلنے نہیں دے رہے تھے۔ میری بیوی کا چہرہ خوف سے زرد ہو گیا تھا، اور وہ آنکھوں میں آنسو لیے میرے پاس آئی۔

میں فوراً پولیس کو بلانے کا فیصلہ کیا، لیکن اس سے پہلے مجھے اپنی بیوی کو کسی محفوظ جگہ پر لے جانا ضروری تھا۔ میں نے عورت کے شوہر سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ بے حس و حرکت تھے اور کچھ کہنے کی حالت میں نہیں تھے۔ عورت نے مجھے یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کی کہ یہ ان کا خاندانی مسئلہ ہے، اور مجھے مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

لیکن میری بیوی کا خوف اور تکلیف واضح تھی۔ میں نے ایک پڑوسی کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی، اور پھر اپنی بیوی کو گاڑی میں بٹھایا اور گھر سے دور لے گیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور میری بیوی کو عورت کے چنگل سے نجات دلائی۔

اس واقعے نے میری آنکھیں کھول دیں۔ میں نے فوری طور پر اپنی بیوی کو پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا اور خود بھی سعودی عرب میں اپنی ملازمت چھوڑ دی۔ میں نے سیکھا کہ پیسہ کبھی کبھی انسان کو اندھیروں میں لے جا سکتا ہے اور اس کی حقیقی قیمت انسانی زندگی اور خوشی سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

بیوی کو پاکستان بھیجنے اور سعودی عرب میں ملازمت چھوڑنے کے بعد، میں نے فوری طور پر اپنی زندگی کا رخ بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے نے مجھے یہ سکھایا کہ دولت اور سہولتیں کبھی کبھی سنگین قیمت پر آتی ہیں، اور میں اپنی بیوی کی حفاظت اور خوشی کو ہر چیز سے مقدم رکھتا ہوں۔

میں نے اپنی بیوی کو پاکستان پہنچتے ہی اس کے خاندان کے پاس بھیج دیا تاکہ وہ محفوظ اور حمایت کے دائرے میں رہ سکے۔ پھر میں نے اپنے کام کے معاملات کو حل کرنے کے لیے کچھ دن مزید سعودی عرب میں گزارے۔ ان دنوں میں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور وہ تمام دستاویزات اور معلومات فراہم کیں جو انہیں درکار تھیں۔

میرے واپس پاکستان آنے کے بعد، میں نے اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے علاقے میں ایک چھوٹا کاروبار شروع کیا تاکہ اپنی زندگی کو ایک نئی راہ پر لے جا سکوں۔ میں نے یہ بھی طے کیا کہ کبھی دوبارہ بیرون ملک کام کے لیے اپنی بیوی کو نہیں بلاؤں گا۔

یہ سب کچھ آسان نہیں تھا، لیکن میں نے عزم اور محنت سے کام کیا۔ جب بھی مجھے مایوسی محسوس ہوتی، میں اپنی بیوی اور اس کے خاندان کے تعاون کو یاد کرتا۔ انہوں نے مجھے یہ یقین دلایا کہ ہم ایک ساتھ مل کر کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ، میں نے کاروبار کو وسعت دی اور ایک چھوٹی ٹیم بھی بنائی۔ زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آنے لگی اور میری بیوی بھی اپنے تجربے سے باہر آ کر خوشی کی جانب بڑھنے لگی۔ ہم نے مل کر یہ عہد کیا کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور کسی بھی قیمت پر اپنی خوشیوں کو قربان نہیں کریں گے۔

یہ کہانی مجھے یہ سکھا گئی کہ زندگی میں سب سے اہم چیز محبت اور اعتماد ہے۔ دولت اور کامیابی اہم ہو سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کے پاس اپنے عزیزوں کا ساتھ نہ ہو تو یہ سب بے معنی ہیں۔ میں نے یہ عہد کیا کہ میں اپنی بیوی اور خاندان کے ساتھ ہمیشہ وفادار رہوں گا، اور ہم نے مل کر ایک نیا آغاز کیا، جس میں ہماری خوشی اور ایک دوسرے کی حمایت اولین ترجیح تھی۔